انوکھی تجارت—وقاص اسلم کمبوہ ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

وہ اپنی قسمت سے مایوس ہو چکا تھا۔ مایوسی نے اسے اس قدر گھیر لیا تھا کہ اب وہ اس دنیا میں رہنا تک نہیں چاہتا تھا ۔اس نے ہر کاروبار میں قسمت آزمائی کی،مزدوری کی، لیکن شاید ہر کام میں اس کے لیے نقصان ہی لکھاتھا۔ وہ جو بھی کام شروع کرتا اسی میں مزید پڑھیں

ٹوبہ ٹیک سنگھ۔۔۔۔سعادت حسن منٹو

بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل ، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے مزید پڑھیں

فریبی اجالا—طارق شبنم بانڈی پورہ کشمیر (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

دن بھر کسی پُر کشش چٹ پٹی مصالحے دار خبر کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے میں نڈھال ہو چکا تھا۔جسم کا انگ انگ تھکن سے چور تھا۔شام کے دھند لے سائے چھاتے ہی میرے قدم خود بہ خود اس خوبصورت پارک کی طرف اُٹھ گئے جہاں نیم عریاں لباس زیب تن کئے مرد و زن مزید پڑھیں

زم زم کی واپسی—عظمٰی عروج عباسی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

1 ڈور پاسورڈ پریس کرتی ہوئی “حورالعین” دھک دھک کی آواز سے سیکیورٹی کو چیرتی ہوئی سی سی ٹی وی ہال میں داخل ہو رہی تھی۔معمول کے مطابق فین سینا کی نظریں حور کو ہی فالو کررہی تھی تو میم فین سینا تم سارے کیسسز چھوڑ کر مجھے ہی sourt out کرنے میں لگی تھی مزید پڑھیں

معاوضہ—ناصرصدیقی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

اس شادی شدہ عورت کی پہلی ہی بے وفائی ایک پرانی قحبہ اور دلالہ نے پکڑی تھی۔ مردملگجے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اپنے چہرے کے سارے تاثرات کے ساتھ بھاگ گیا تھا اور عورت کھڑی تھی جس کی نشہ آور اور خوشبو سے اٹی پڑی زلفوں کی چند لٹیں مست ہواؤں سے بکھری ہوئی مزید پڑھیں

گُھس بیٹھیا—–وسیم بن اشرف

ڈان اینڈوکرز پلاسٹک کمپنی کے دفتر میں تاریکی اور خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ راہداری میں مدھم روشنی کا بلب جل رہا تھا۔ ایک دروازے پر کمپنی کے پارٹنر ڈان ماریسن کے نام کی تختی نظر آ رہی تھی۔ اس وقت رات کے دس بجے تھے۔ لؤکول ادھر ادھر دیکھتا ہوا راہداری میں داخل ہوا۔ اس مزید پڑھیں

آنکھ کی پتلی کا تماشا… فارحہ ارشد (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

” مجھے اس سے دس گھنٹے محبت ہوئی تھی صرف دس گھنٹے۔۔۔۔اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا۔” وہ خالی نظروں سے دور کہیں ان دیکھے منظروں میں کھوئی کہہ رہی تھی۔ میں نے کچھ حیرانی اور قدرے دلچسپی سے اسے دیکھا اور بنا ٹوکے اسےکہنے دیا جو نجانے کب سے وہ کہنا چاہ مزید پڑھیں

ادھورے نقوش—محمد نواز،کمالیہ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

میٹنگ ہال میں شہر بھر کی ہیلتھ ورکرز کی ماہانہ میٹنگ جاری تھی ،ہر ہیلتھ ورکر سے اس کی کارکردگی پر باز پرس ہو رہی تھی ،جن ہیلتھ وکرز کی کارکردگی اچھی تھی انہیں تعریفی الفاظ میں سراہا جا رہا تھا اور جن کی کارکردگی خراب، ان کی سرزنش اورساتھ ہی آئندہ نوکری سے برخاستگی مزید پڑھیں

بے جنسیت—رحمٰن عباس

مئی کامہینہ تھا ۔ سورج اپنی گرمی ممبئی پر برسا رہا تھا۔زمین کے اندرون سے گویا ایک دھواں سا اٹھ رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کولتار کی سڑک پگھل جائے گی ۔ شاہد اقبال نے سوچا کیا یہ شہر کسی آتش فشاں پر آباد ہے جس کے سبب زمین کی اندرونی مزید پڑھیں

انڈس ڈولفن—خاقان ساجد (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

ہم نے تاری ماموں کو باگڑجی کے جنگل میں جڑی بوٹیاں تلاش کرتے پایا۔ان کے بائیں کندھے سے ایک بڑا سا تھیلاجھول رہاتھاجس میں سے انواع واقسام کے پھول‘ پھلیاں‘ بوٹیاں اور پتیاں جھانک رہی تھیں۔ سندھ ساگرکے سیلابی ریلوں نے جنگل کی ترائی میں جووسیع وعریض جھیل تشکیل دی تھی‘وہ ہماری شکارگاہ تھی۔موسم سرما مزید پڑھیں

آبگینے—عرشیہ ہاشمی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 21)

” مبارک ہو اللہ پاک نے رحمت سے نوازا ہے” نرس نے اسے رحمت کی نوید سنائی تھی۔لیکن ہسپتال کے بیڈ پر نڈھال سی پڑی انابیہ کے چہرے پر سایہ سا آن لہرایا۔ “کیا بات ہے مس انا آپ خوش نہیں ہوئیں۔۔۔؟کیا آپ بھی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتی ہیں؟”نرس نے اس ننھی کلی کو اس مزید پڑھیں

چیونٹیاں—-حمیرا مدثر(ریاست نامہ افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 20)

“بیڑا غرق ہو تیرا ! نہ مار اِنھیں ۔یہ بے ضرر ،بے چاری مخلوق کیا کہتی ہے تجھے ؟” اُس نے چیونٹیوں کے ڈھیر پر اُچھلتے زبیر کو کان سے پکڑ کر پیچھے دھکیلا۔ “آپا میری قمیض کو ایسے سونگھتی ہیں جیسے میں نے گودے میں لڈو چھپا رکھے ہوں اور وہ میرا سائیکل دیکھ مزید پڑھیں

خلع—شگفتہ یاسمین (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 19)

”ذرا سوچ سمجھ کے فیصلہ کرنا۔۔۔۔۔۔ یہ رشتے کروانے والیاں جو بتاتی ہیں وہ حقیقت نہیں ہوتا”۔۔۔آپا نے بڑی بی بنتے ہوئے کہا، پاس بیٹھی خالہ صغریٰ، آپا کی بات پر تیش میں آ گئی اور لگی غصّہ کرنے۔ ’’جو مجھے نظر آتا ہے وہی تو آکر بتاتی ہوں میں نے کبھی غلط بیانی سے مزید پڑھیں

جب دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا–پارس بخاری کوئٹہ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 18)

دُھند چھٹ چکی تھی اور سورج کی کرنیں جاڑے کی دبیز چلمن سے فطرت کی بے انتہا خوبصورتی کو جھانک رہی تھیں۔پارک میں موجود خوبصورت دوشیزاؤں پر سورج کی یہ پُرحواس نظریں معمول کی بات تھی لیکن ویکنڈ (Weekend) پر یہ چوریاں اور بدحواسیاں قدرے بڑھ جایا کرتی تھیں۔ دُھند اور سورج کی یہ آپسی مزید پڑھیں

نکسیر—–اعتزاز احسن (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 17)

سردموسم کی خاموشی ہر سو دھواں دھواں ہو رہی تھی ۔ قریب رات 11بجے کا وقت تھا اور ہم چار ایک ہم صورت چائے کے ڈھابے میں نشست جمائے بیٹھے تھے۔ صبح اتوار تھی اور اسی نشے میں دھت ہم دنیا و ما فیہا سے بے خبر بس چائے کی پیالیاں پیتے جا رہے تھے۔ مزید پڑھیں

وہ معاف کرنے والا ہے—سلیم سرفراز،بنگال،ہند (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 16)

باثمر درختوں اور مرغزاروں سے گھری ہوئی وہ خوبصورت بستی نظر آئی تو جوان العمر مرید نے بےقرار ہوکر اپنے بزرگ پیر ومرشد سے استفسار کیا. “یاحضرت! کیا یہی وہ بستی ہے جہاں پہنچنے کا ہم نے قصد کیا تھا؟ ” بزرگ نے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے دامن میں آباد اس بستی کا بہ نظر مزید پڑھیں

سرخ گلاب—طارق عزیز(ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 15)

اس کے ننھے ہاتھوں میں گلاب کے آخری دو بنڈل باقی رہ گئے تھے۔ سرخ گلابی ہاتھوں میں پیلے گلاب۔ اُس کے ہاتھ پھولوں کو لگے پانی اور سردی کی وجہ سے گلابی ہوتے جاتے تھے، انہیں وہ باری باری اپنی پیٹھ پر رگڑ کر گراماتا جاتا تھا۔ آج اسے گلاب کے سرخ بنڈل کم مزید پڑھیں

نامکمل رومان۔۔۔ ابصار فاطمہ، سکھر افسانہ نمبر 14

آج پہلی بار وہ اپنے محبوب کے اتنے قریب بیٹھی تھی۔ بار بار ان کے بازو ایک دوسرے سے مس ہوتے اور وہ سرشار ہوجاتی۔ محبوب کی قربت اور ساتھ ہی پا لینے کا سرور بہت انوکھا تھا۔ اس نے جو چاہا وہ پالیا تھا۔ شاید اس سے زیادہ مکمل رومان کی داستان کوئی ہو مزید پڑھیں

خونی رشتے—-مجید احمد جائی،ملتان (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 13)

شام کا وقت تھا ۔وہ سارے کام نمٹا کر کھانا بھی کھا چکی تھی۔وہ تھوڑی دیر ذہن کو پُرسکون اور تھکن دُور کر نا چاہتی تھی ۔ٹی وی لاؤ نج میں ٹی وی چل رہا تھا.وہ بھی ٹی وی اسکرین کے سامنے آبیٹھی ۔آج معمول کے مطابق خبروں کے بعد ڈرامہ نہیں چلا تھا ۔کسی مزید پڑھیں

حقیقی جیت—عبدالصبور شاکر ٹوبہ ٹیک سنگھ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 12)

’’پندرہ برس کا عرصہ کچھ کم نہیں ہوتا۔ میں نے اپنی زندگی کے پندرہ برس کانٹوں کے بستر پر گزارے ہیں۔میں روز مرا اور روز جیا ہوں۔مجھے صرف انتقام نے زندہ رکھا ہے۔‘‘ اس نے ڈائری پر ابھی اتنا ہی لکھا تھا کہ قلم نے چلنے سے انکار کر دیا۔ عاطف نے قلم کو انگوٹھے مزید پڑھیں

متاع ثلاثہ——خاقان ساجد

سیانوں نے سچ کہا ہے: ’’بڈھے کی مرے نہ جورو‘بالے کی مرے نہ ماں۔‘‘ دونوں کے لئے زندگی کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بالک سے زیادہ بالی کو ماں کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر بوڑھے کے لئے بیوی کی جدائی سہنا دُشوار ہوتا ہے تو جوان مرد کے لئے یہ مزید پڑھیں

تیسرا ایکٹ—-محمد کاشف حنیف (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 11)

ٹک ٹک ٹک ۔۔ٹک ٹک۔۔۔سفید قلموں اور ناک پر عینک جمائے میں جناح آڈیٹوریم میں داخل ہوا تو نیچے لگی لکڑی کی پھٹیوں پر میرے چلنے کی آواز میرے ذہن کے دریچوں پر پڑے قفل کھولنے لگی۔ میں نے بائیں جانب نظر دوڑائی تو ہال میں لگی سیڑھیوں کی شکل میں اوپر سے نیچے کی مزید پڑھیں

قید–ساجدہ غلام محمد مانچسٹر ( افسانوی مقابلہ. افسانہ نمبر 10)

“انسان کو کس طرح نیند آتی ہے؟” ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ سونے کے لئے لیٹا تھا اور اب اچانک یہ سوال اس کے ذہن میں ابھرا تھا. قریب ہی اس کی بیوی کی مدہم سانسیں بتا رہی تھیں کہ وہ گہری نیند سو رہی ہے. “آج نوٹ کرتا ہوں کہ نیند میں جاتے مزید پڑھیں

نہ وہ سورج نکلتا ہے—شاہد جمیل احمد،گوجرانوالہ (افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 9)

زمین کی تقسیم کا اعلان کیا ہوا کہ لوگوں کے ضمیر اور دل ہی تبدیل ہوگئے ۔ صدیوں سے قائم باہم انسانی رشتے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ یوں محسوس ہوتا تھاجیسے سالہا سال اکٹھے رہنے والوں کے بیچ کوئی جذباتی رشتہ سرے سے موجود ہی نہ تھا ۔ آناً فاناً ان کی سوچوں کے مزید پڑھیں

طعنہ–حفصہ فیصل (افسانوی مقابہ، افسانہ نمبر 8)

مؤذن کی آواز کے ساتھ ہی صالحہ بستر چھوڑ دیتی،سفید پوُ پھوٹتے ہی وہ بنیادی ضرورتوں سے فارغ ہوکر رب کے سامنے جا کھڑی ہوتی صلاۃ و تسبیح سے فارغ ہوکروہ اپنے ہاتھ پھیلا کر اپنےخالی دامن کو اشکوں سے پُر کرکے خالقِ کون و مکان سے خو ب خوب مناجات کرتی ،ساتھ ہی اپنی مزید پڑھیں

روپ کا بہروپ—-ڈاکٹر ارشد اقبال،اترپردیش انڈیا (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 7)

آج نومبر کا دوسراہفتہ یعنی ۷؍نومبرہے۔۔۔۔۔۔! آج کا دن اہم دن ہے۔۔۔اور ایک غیر معمولی تاریخی فیصلہ آنا ہے۔اگر فیصلہ مجرم کے خلاف آیا توپوری قوم کو مستقبل کے لیے ملک گیر پیمانے پرذہن سازی کی فضاء قائم کرنا مشکل ترین ثابت ہوگا ۔۔۔! فیصلے کے نتائج مثبت ہوں گے یا منفی؟ شاید یہ بعد مزید پڑھیں

تیرے سنگ پیا—-حمیرا تبسم (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 6)

پوری وادی پہاڑوں سے اٹی ہوئی تھی۔جبکہ ان پہاڑیوں پہ بل کھاتی سڑکیں بھی موجود تھیں ارد گرد پتھروں سے بھرے میدان تھے جن پہ گھاس اگی ہوئی تھی ۔پہاڑیوں پہ بنے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے گھر بھی تھے جو کہ دور سے دکھائی دینے کی وجہ سے چھوٹے سے ڈربے نما لگتے۔جب کہ بڑے مزید پڑھیں

ہتھیلی——ماہ وش طالب (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 5)

فضا میں گھٹن سے زیادہ نفسا نفسی کا عالم تھا, مانو ہر کوئی نفس کے فقس میں قید ہو, پرانی انار کلی اور اس کے قرب و جوار میں ہر طرح کا بازار گرم تھا, موسمِ سرما کی خاص فضا میں سماں بندھا تھا, دھواں اڑاتے اشتہا انگیز پکوان,کہ رئیس ہو یا سائل , بھوک مزید پڑھیں

درد ا بھی ادھورا ہے–سارا احمد (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 4)

اس کی زندگی چرخے کی کوک کی مانند تھی- درد کی اٹیاں بنا کر وہ اپنے دل کی صندوقچی میں قفل لگا کر سنبھال لیتی پھر کنواری راتوں کی نیند جب اس کے ٹوٹتے بدن سے لپٹتی تو اسی درد کے سوت سے اپنی کرلاہٹوں کو جکڑتی- محبت بڑی نامراد شے ہے- اچھے بھلے بندے مزید پڑھیں

داہنی آنکھ ——تنزیلہ یوسف لاہور ( افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 3)

“وہ اب نہیں آئےگا۔ اس کی راہ دیکھنا چھوڑ دے بھلیے لوکے۔ وہ وہاں جا چکا ہے جہاں سے کوئی واپس نہیں آسکتا۔ اب اسے تیری میری دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اپنے دل کو سمجھا اور زندگی کی طرف واپس مڑ کر دیکھ ۔ جانے والا اتنی ہی عمر لکھوا کر لایا تھا۔ زندگی رب مزید پڑھیں

روح کا سفر—رابعہ الرَ بّاء (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 2)

آسما نی پردوں پر ، رائل بلیو لہروں میں ، سفید پتو ں کی باتیں ، جب نیلے بیڈ پہ بچھے ریشمی رائل بلیو بستر کے مو تیا پھو لو ں سے ہو تیں تووہ الما ری کے قریب بچھی آسما نی رگ پہ آ بیٹھتی ، اور بلیو کْشن سے ٹیک لگا کر ان مزید پڑھیں

کالے دیوؤں کی واپسی—ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیر (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 1)

وہ گہری کھائی سے نکل کر جونہی پہاڑ کی بلند چوٹی پرپہنچ گیاتو دھوپ کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ پگھلتے گلیشیئرکی طرح یخ بستہ وجود بھی رفتہ رفتہ پگھلنے لگا۔تھوڑی دیر تک حواس بحال ہوتے ہی بے قرار آنکھیں گہری کھائی کے پگھلتے گلیشیئر کو تکنے لگیں۔پانی کے بہاؤ کی طرح جیسے اس کی منجمدیاداشت مزید پڑھیں

افسانہ ڈالی—- خاقان ساجد

نیا سا ل بھی دبے پاؤں گزرتاجا رہاتھا مگر سردار کی یورپ یاترا سے واپسی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اس کی عدیم الفرصتی کے سبب قبیلے کی بیسیوں کنواریاں‘ بیاہ کے انتظار میں بابل کی دہلیز پر بیٹھی ‘ لو کی ماری امبیوں کی طرح پیلی پڑ رہی تھیں۔ سبھی چپکے چپکے شہید بابا مزید پڑھیں

آپا—-ممتاز مفتی

جب کبھی بیٹھے بٹھائے، مجھے آپا یاد آتی ہے تو میری آنکھوں کے آگے چھوٹا سا بلوری دیا آ جاتا ہے جو نیم لو سے جل رہا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک رات ہم سب چپ چاپ باورچی خانے میں بیٹھے تھے۔ میں، آپا اور امی جان، کہ چھوٹا بدو بھاگتا ہوا آیا۔ ان مزید پڑھیں

آخری آدمی—انتظار حسین

الیاسف اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔ اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر مزید پڑھیں

سوزدروں–کرنل خاقان ساجد

اسے توقع تو تھی مگریقین سے کچھ کہنامشکل تھا۔مقابلہ سخت تھا۔آخری وقت تک امیدوبیم کی سولی پرلٹکارہا۔دفترسے اس نے دوروزکی رخصت لے لی تھی۔اچھی یا بری خبروہ اپنے گھرپرہی سننا چاہتاتھا۔ دوپہردوبجے کے قریب ایک سینئر نے فون پر خوش خبری سنائی توسرشاری وشادمانی کی ایک لہرایکاایکی سارے وجود میں دوڑ گئی۔ احساس تفاخر سے مزید پڑھیں

بیچاری ریل گاڑی—–مجید احمد جائی

میں ریل گاڑی ہوں ،بے قصور اور مظلوم ۔اِس وقت پاک سرزمین پاکستان کے مشہور شہر کے پلیٹ فارم پہ کھڑی ہوں ۔اب تو میں بوڑھی اور شاید ناکارہ بھی ہو چکی ہوں لیکن ایک وقت وہ بھی تھا ۔جب مجھ پہ جوبن تھا ۔میں جوان تھی اور الہڑمٹیار کی طرح شوخیانہ پن اور نخرے مزید پڑھیں

خدا،گڑیا اور خدا (افسانہ)–محمد ریاست

ریڈر کا قلم رک گیا، جج کا ہاتھ ماتھے پر ٹک گیا اور منہ کھلے کا کھلا رہ گیا کیونکہ اس نے لفظ ” کیا ” کہا تھا اور پھر شاید منہ بند کرنا بھول گیا،ٹائپسٹ کی انگلیاں ہوا میں معلق ہو گئیں. وکیل استغاثہ نے اپنی براق ایسی سفید داڑھی میں انگلیاں ڈالیں اور مزید پڑھیں

شیدو—-خاقان ساجد

وہ کہنے لگا: ’’بھیرہ انکلیو تو ایک پرچھائیں ہے اُس سندر شہر کی۔ رہی روپاؔ تو اس حقیقت کے باوجود کہ وہ شادی سے پہلے ’’مس کلکتہ‘‘ کا ٹائٹل جیت چکی تھی، میرے خیالوں کے ایرینا (ARINA) میں منعقد ہونے والے ہر مقابلۂ حسن میں وہ ہمیشہ رنر اپ (RUNER UP) ہی رہی۔ ملکۂ حسن مزید پڑھیں

افسانہ: کباڑیا—-افسانہ نگار: خاقان ساجد

چھاؤنی کی حدود سے باہرمضافات کی طرف جانے والی سڑک کے اردگرد‘جہاں کبھی سرسبزکھیت اوراینٹ گارے سے بنے اکا دکامکانات ہواکرتے تھے ‘ وہاں اب بے ہنگم رہائشی کالونیاں وجودمیں آچکی تھیں۔سڑک کے دونوں جانب دور تک ہرطرح کی دکانیں‘گودام‘سی این جی اسٹیشن‘تعمیراتی سامان کے بڑے بڑے سٹور اورماربل فیکٹریاں بن گئی تھیں۔راجامشکورکا’’آرکوآکشن مارٹ‘‘ بھی مزید پڑھیں

جنتی جوڑا—واجدہ تبسم

آج ایک ساتھ خوشی اور غم کا دن تھا۔ بی بی ماں کی شادی کا دن! چاندی کے جھم جھماتے تھالوں میں ایک قطار سے دس جگر مگر کرتے تولواں جوڑے، رکھے تھے اور گیارھواں تھا، جو سونے کا تھا، اس میں سب سے قیمتی جوڑا سجا ہوا تھا، جس کی مجموعی قیمت پچیس ہزار مزید پڑھیں

موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ——محمد حمید شاہد

وہ مر گیا۔ جب نخوت کا مارا‘ امریکا اپنے پالتو اِتحادیوں کے ساتھ ساری اِنسانیت پر چڑھ دوڑا اوراعلٰی ترین ٹیکنالوجی کے بوتے پر سب کوبدترین اِجتماعی موت کی باڑھ پر رَکھے ہوئے تھا ‘ وہ اِسلام آباد کے ایک ہسپتال میں چپکے سے اکیلا ہی مر گیا ۔ مجھ تک اُس کے مرنے کی مزید پڑھیں

ذرا اور اوپر——-واجدہ تبسم

نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔ اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ معطر ہو گیا…. پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے مزید پڑھیں

کھول دو—–سعادت حسن منٹو

امر تسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی، راستے میں کئی آدمی مارے گئے ، متعدد زخمی اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گئے۔ صبح دس بجے۔۔۔۔کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں، اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک مزید پڑھیں

کالی شلوار—–سعادت حسن منٹو

دہلی سے آنے سے پہلے وہ انبالہ چھاؤنی میں تھی، جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ یہاں آئی اور اس کا کاروبار نہ چلا تو مزید پڑھیں

اُترن——-واجدہ تبسم

’’نکو اللہ، میرے کو بہوت شرم لگتی۔‘‘ ’’ایو اس میں شرم کی کیا بات ہے؟ میں نئیں اتاری کیا اپنے کپڑے؟‘‘ ’’اوں …. چمکی شرمائی۔‘‘ ’’اب اتارتی کی بولوں انا بی کو؟‘‘ شہزادی پاشا جن کی رگ رگ میں حکم چلانے کی عادت رچی ہوئی تھی، چلا کر بولیں۔ چمکی نے کچھ ڈرتے ڈرتے، کچھ مزید پڑھیں

لنگی——شموئل احمد

شموئل احمد کا تعلق انڈیا سے ہے وہ بہت ہی سینئر لکھاری ہیں اور فکشن نگاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے. ان کا گزشتہ دنوں شائع ہونے والا افسانہ لنگی منفرد پلاٹ پر لکھا گیا ایک خوبصورت اور متنازعہ افسانہ ہے.یہ افسانہ کئی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکا ہے اور شموئل احمد پر اسی مزید پڑھیں

تکلے کا گھاؤ——حمید شاہد

کاغذ پر جُھکا قلم کمال محبت سے گزر چکے لمحوں کی خُوشبو کا متن تشکیل دینے لگتا ہے: ”ابھی سمہ بھر پہلے تک دونوں وہ ساری باتیں کررہے تھے- جو دنبل بن کر اندر ہی اندر بسیندھتی- پھولتی اور گلتی رہیں یا پھر اَلکن ہو کر تتّے کورنوالے کی طرح حلق میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ مزید پڑھیں

آزاد سنگھ——-عبدالصبورشاکر پھلور

آزاد سنگھ ’’ایکسکیوزمی سر! کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟ ‘‘ میں جو آنکھیں موندے، بینچ سے ٹیک لگائے اور پاؤں پسارے بیٹھا ہوا تھا یکدم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میرے سامنے اٹھارہ بیس سال کا نوجوان کھڑا تھا۔ بھوری ڈاڑھی، لمبی پلکیں، سفید چہرہ اور گلابی ہونٹ، البتہ سر پر بندھی مخصوص سٹائل مزید پڑھیں

عورت کتھا——مریم تسلیم کیانی

کاش میں رک جاتی وہ جب سے اولڈ ایج ہوم آئی تھی ایک ہی رٹ لگا رہی تھی. اس اولڈ ایج ہوم میں صرف خواتئن تھیں یہاں آنے کا صدمہ بہت تھا ہے. وہ چونکہ نئی نئی تھی اور سب کے سامنے بولنا نہیں چاہتی تھی، اس لیے میں نے ایک دن اس سے اکیلے مزید پڑھیں

پیچاک———شاہد جمیل احمد

دریا، کنارا ، دور تک چھوٹے اور درمیانے پیڑوں کے جُھنڈ اور پھر ایک بڑا درخت۔ درخت کا بھی کوئی نام نہیں ، اِسے بس ہم اس کی چھایا اور داڑھی سے پہچانتے ہیں ۔ جب ہم درخت کی داڑھی دیکھتے ہیں تو کبھی اپنی چھاتی کے بالوں کو دیکھتے ہیں ، کبھی اپنی بغلوں مزید پڑھیں

ہمزاد————- شاہد جمیل احمد

ٹھک، ٹھک،ٹھک! کون ہے بھئی؟ میں ہُوں! میں کون؟میں اِبنِ فلاں!اِبنِ فلاں کون؟اِبنِ فلااں!اِبنِ فلاں کون؟ حد ہو گئی بھئی !یہ کنڈیالے چوہے جیسے بالوں والا بابا میری جان کو آ گیا ہے۔یہ حیات کا مُنکر نکیر ممات سے پہلے ہی پُوچھ کر رہے گا کہ آخر میں کون ہوں۔اگرچہ یہ دروازہ بھی میرے لئے مزید پڑھیں

ایک رات کی خاطر—–شاہد جمیل احمد

میرے کندھوں سے کب اترے گا صابی تو بولتا کیوں نہیں؟ تجھے پتہ ہے اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ میرے قویٰ جواب دے گئے ہیں۔ تجھے لاد کر دو قدم چلتا ہوں تو میری سانس پھول جاتی ہے۔ مجھے ناف پڑ جاتی ہے ناف ٹھیک ہوتی ہے توچک پڑ جاتی ہے اے زلیخا کے مزید پڑھیں

سفید اور سیاہ بادلوں کا کولاژ———– صدف اقبال، گیا (انڈیا)

شہر کے آخری چھور پہ وہ پرانا برگد کا درخت اپنے سینے میں صدیوں کی داستان سمیٹے اپنے لمبے بازوؤں کو پھیلائے آج بھی مضبوطی سے کھڑا تھا ۔اسکی جڑ میں بنا پختہ چبوترہ ہمیشہ ہی اوباشوں کا اڈہ رہا تھا اور اس پر بیٹھ کر ہر قسم کی باتیں ہوتیں ۔ گرمی کی دوپہر مزید پڑھیں

آخری ہچکی——–محمد ریاست

پندرہ سال کے طویل عرصے کے بعد ہم دونوں اسی ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے جہاں ہم پہلے تقریبا روز ملا کرتے تھے، میں نے دانستہ ٹیبل بھی وہی منتخب کیا تھا جو اس کا پسندیدہ تھا بلکہ اس ٹیبل کے حصول کے لئے مجھے اس بوڑھے ویٹر کو ٹپ دینی پڑی تھی جو پندرہ سال مزید پڑھیں

حال دل———–ساجد ہدایت (لاہور)

میں جانتا ہوں کہ اب حال دل تم سے کہنا بیکار ہے…. کیونکہ نہ تم میری دوست اور نہ ہی میری دشمن ہو…. پھر بھی نہ جانے میرا دل صرف تمھیں ہی کیوں ہر بات بتانا چاہتا ہے؟؟؟ ……. میں تم سے ہی سب باتیں شئیر کر کے خود کو ہلکا کیوں محسوس کرتا ہوں….. مزید پڑھیں

سفید کبوتر——–ڈاکٹر ریاض توحیدی

وہ اسپتال سے چیک اپ کروانے کے بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ راجدھانی چوک کے قریب غیر متوقع ٹریفک جام سے آمدو رفت کا سلسلہ درہم برہم ہوچکاتھا۔گاڑیوں کے کالے دھوئیں کی زہر آلود ہ فضاسے ماحول دھند زدہ ہوگیا تھا۔افراتفری کے عالم میں لوگوں کا گاڑیوں سے اترنا چڑھنا جاری تھا۔پْرانتشار کیفیت میں حساس مزید پڑھیں

“پہلا ریاست نامہ سالانہ مقابلہ برائے افسانہ نگاری”

ریاست نامہ لایا سب سے بڑا مقابلہ پہلا ریاست نامہ سالانہ مقابلہ برائے افسانہ نگاری پہلا انعام 30 ہزار روپے پاکستانی نقد،اسناد اور شیلڈ دوسرا انعام 15 ہزار روپے پاکستانی نقد،اسناد،شیلڈ تیسرا انعام 10 ہزار روپے پاکستانی نقد،اسناد،شیلڈ بہترین تبصرہ نگار کے لیے 10 ہزار روپے پاکستانی نقد. شرائط و ضوابط: تمام انعامات کا فیصلہ مزید پڑھیں

واپسی———محمد حمید شاہد

محض ایک ہفتہ باقی تھاا ور وہ ہاتھ پاﺅں چھوڑ بیٹھا تھا۔ حالاں کہ اُس کے بارے میں اُس کے ماتحت کام کرنے والے اور اعلیٰ افسران دونوں رائے رَکھتے تھے کہ وہ لاتعلق ہو کر بیٹھنے والا یا مشکل سے مشکل حالات میں بھی حوصلہ ہارنے والا فرد نہیں‘ آخری لمحے تک جدوجہد کرتا مزید پڑھیں

برف کا گھونسلا ———– محمد حمید شاہد

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر کے اندر قدم رکھا‘ اُدھر وہ مجھ پر برس بڑی۔ بچیاں جو مجھے دیکھ کرکھِل اُٹھی تھیں اور میری جانب لپکنا ہی چاہتی تھیں‘ اِس متوقع حملے میں عدم مداخلت کے خیال سے‘ جہاں تھیں وہیں ٹھہری رہیں۔ ”اِس سے مزید پڑھیں

افسانہ: زمین پر اُترا ہوا پاگل چاند’ افسانہ نگار: محمود ظفر اقبال ہاشمی

حنین امراء کی اس پر شور محفل سے تنگ آکر سب سے نظریں بچاتے ہوئے باہر نکل آئی مگر بدقسمتی سے آج چودھویں کی رات تھی ۔ جو کچھ اس کے ساتھ پچھلے چند برسوں میں ہوا تھا اس کے بعد اسے چودھویں کے کھلکھلاتے ہوئے چاند اور اس کی نقرئی روشنی سے چڑ سی مزید پڑھیں

افسانہ: کاتک کی دلہن افسانہ نگار: محمد نواز کمالیہ

گاؤں کی کچی سڑک کے کنارے آوارہ کتوں کا اک گروہ نا جانے کہاں سے آ گیا تھا ۔گاؤں کی طرف جانے اور آنے والا ہر آدمی راہ بیٹھے ان کتوں سے دامن بچا کر گزرنے کی کوشش کرتا ، تاہم پھر بھی ان کے بھونکنے کی آوازیں کبھی کبھار سنائی دینے لگتی تھیں۔ اگرکوئی مزید پڑھیں

افسانہ: فیتا، افسانہ نگار: خاقان ساجد

اگرآپ کبھی صبح سویرے کشمیر روڈ کی جانب سے باؤ محلے میں داخل ہوں تو آپ کو درمیانی عمر‘صاف رنگت اورکھچڑی داڑھی والا ایک پستہ قد آدمی نظرآئے گاجوتیزقدموں سے چلتاہوا ہاتھی چوک کی طرف جارہاہوگا۔ مٹیالے رنگ کی شلوار قمیص ‘ پشاوری چپل اورنماز والی ٹوپی پہنی ہوگی ۔ہاتھ میں موٹے دانوں کی تسبیح مزید پڑھیں

افسانہ: آخری سگریٹ افسانہ نگار: محمد نواز کمالیہ

آخری سگریٹ محمد نواز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمالیہ وہ اپنے سگریٹ کیس میں ہمیشہ دو سگریٹ رکھتا تھا،ایک سگریٹ سلگاتااور اسے مزے لے لے کر پیتا ، سگریٹ کا کش پہلے گلے میں اترتے سانس کے ساتھ اندر پھیپھڑوں تک لے جاتا اور پھر اسے ناک اور منہ کے راستے باہر آتی سانس کا گولا سا بنا مزید پڑھیں

ووٹ———–محمد ریاست

مرکھٹ پر آگ ٹھنڈی پڑچکی تھی، چتا جل کر راکھ ہوئی تھی اور راکھ کو ٹھکانے لگانے کا کام جاری تھا۔ بالکل ساتھ ہی ایک اور چتا جلانے کا انتظام کیا جا رہا تھا، چندو نے گرد آلود ہاتھوں سے اپنا چہرہ صاف کرنے کی ناکام کوشش کی اور دوسری چتا کی طرف بڑھ گیا مزید پڑھیں

افسانہ عام سی عورت آسناتھ کنول

یہ کوئی کہانی نہیں ہے ایک عورت کا دکھ ہے جو صرف ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے۔ مہر سلطان بہت باوقار اور دبدبے والی عورت تھی پٹرھی لکھی سمجھدار اور دانشور ۔دنیا کو اپنے پیروں تلے روندنے والی ایکٹروں پر پھیلی ہوئی زمین جو ہر قسم کی کھیتی سے بھری رہتی۵ کینال پر پھیلی مزید پڑھیں

افسانہ تبدیلی- مصنف آسناتھ کنول

وہ اپنے بوڑھے ہوتے ہوئے بالوں میں جوانی کا رنگ بھرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔نئی بتیسی اُس کے زندہ جذبوں کوپامال نہیں کر سکتی تھی۔عمروں کے روگ جسموں کو شکستہ کرتے ہیں،روحوں کو نہیں۔آپریشن زدہ آنکھوں میں اب بھی خواب اُترتے تھے اور وہ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے کسی لاحاصل سفر مزید پڑھیں

افسانہ: لاش افسانہ نگار: محمد ریاست

میرے اوپر ایک لاش تھی۔ میرے دائیں بائیں کئی لاشیں تھیں اور میری ٹانگ، اف میری ٹانگ میں شدید درد تھا جسے میں بمشکل برداشت کررہا تھا۔ تھوری دیر پہلے میری ٹانگ میں گولی لگی تھی۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ گولی تھی یا گولیاں، اس حالت میں مجھے تعداد کا مزید پڑھیں