جھوٹی–گل ارباب پشاور (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ 2018)

title afsana No 33

پہلی بار جب استانی جی نے اک بچے کا جھوٹ پکڑا تو سب شاگردوں کو سمجھایا تھا کہ جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے۔ یہ بات سبھی بچوں نے اپنی ماؤں سے بھی سن رکھی ہوگی لیکن جو نئی بات استانی جی نے بتائی اس پہ بچے ڈر گیے تھے انھوں نے کہا کہ جھوٹ مزید پڑھیں

اللہ دتا—سعادت حسن منٹو

title Alla Dita

دو بھائی تھے۔ اللہ رکھا اور اللہ دتا۔ دونوں ریاست پٹیالہ کے باشندے تھے۔ ان کے آبا و اجداد البتہ لاہور کے تھے۔ مگر جب اس دو بھائیوں کا دادا ملازمت کی تلاش میں پٹیالہ آیا تو وہیں کا ہو رہا۔ اللہ رکھا اور اللہ دتا دونوں سرکاری ملازم تھے۔ ایک چیف سیکرٹری صاحب بہادر مزید پڑھیں

باپ کی اولاد–ناہید اختر بلوچ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ 2018)

title bap ki awlad

دھرتی کے ناہموار سینے پر پھیلے بے ترتیب جھونپڑے اپنی قسمت پر شکوہ کناں نظر آتے تھے ۔غربت ان کے آنگنوں میں چلچلاتی ہوئی دھوپ کی طرح اترتی اور پھر دھیرے دھیرے سیاہ رات کا لبادہ اوڑھے ان پر چھا جاتی ۔ان کے نصیب میں سکھ کی ٹھنڈی چھایا مفقود تھی ۔ ایک ایسی ہی مزید پڑھیں

بھیگے کاغذ میں لپٹے ہوئے لمحات—-سلمیٰ صنم (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

afsana no 31 title

اپنے ہونے کا احساس بہت حسین ہوتا ہے.میں اکثر اسے اپنے اندر محسوس کرتا ہوں.خود کو دیکھتا ہوں.سنتا ہوں.سوچتا ہوں اور بے اختیار میرا دل چاہتا ہے کہ چلاؤں میں ہوں ہاں ابھی میں ہوں اورابھی جب یہ احساس اپنے اندر لئے میں Regent Street پر واقع اپنی ملبوسات کی دکان سے نکلا اور Piccadely مزید پڑھیں

زندگی—- آبیناز جان علی موریشس (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

title abenaz

زندگی کو ایک معمہ، ایک راز اور ایک بھید کہا گیا ہے۔اس میں ایک عجیب سی بات ہے۔ یہ الگ الگ رنگ دکھلاتی ہے۔ کبھی ہنساتی ہے اور کبھی رلاتی ہے۔ یہ ہر موڑ پر چونکا دیتی ہے۔ نشیب و فراز زندہ رہنے کے تجربات میں شامل ہیں۔ کبھی خوشیوں کی بہار لاتی ہے اور مزید پڑھیں

زینب—ثناء سعید (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

afsana no 29

یوں تو زینب کی زندگی کو موضوع گفتگو بنانا،اس پر کوئی کہانی لکھنا سراسر نامعقولیت کی بات لگتی ہےمگر نجانے کیوں سر جھکائے اداس آنکھوں والی زینب کو نظرانداز کرنا مجھے جرم سامحسوس ہونے لگا ہے. شاید اس لیے کہ یہ عام سی کہانی متوسط طبقے کے ہر تیسرے گھر کی کہانی ہے،اسے دہراتے رہنا مزید پڑھیں

انوکھی تجارت—وقاص اسلم کمبوہ ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

waqas title

وہ اپنی قسمت سے مایوس ہو چکا تھا۔ مایوسی نے اسے اس قدر گھیر لیا تھا کہ اب وہ اس دنیا میں رہنا تک نہیں چاہتا تھا ۔اس نے ہر کاروبار میں قسمت آزمائی کی،مزدوری کی، لیکن شاید ہر کام میں اس کے لیے نقصان ہی لکھاتھا۔ وہ جو بھی کام شروع کرتا اسی میں مزید پڑھیں

ٹوبہ ٹیک سنگھ۔۔۔۔سعادت حسن منٹو

Poto Grid_201851121232673

بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل ، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے مزید پڑھیں

فریبی اجالا—طارق شبنم بانڈی پورہ کشمیر (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

tariq title

دن بھر کسی پُر کشش چٹ پٹی مصالحے دار خبر کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے میں نڈھال ہو چکا تھا۔جسم کا انگ انگ تھکن سے چور تھا۔شام کے دھند لے سائے چھاتے ہی میرے قدم خود بہ خود اس خوبصورت پارک کی طرف اُٹھ گئے جہاں نیم عریاں لباس زیب تن کئے مرد و زن مزید پڑھیں

زم زم کی واپسی—عظمٰی عروج عباسی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

Uzma title afsana

1 ڈور پاسورڈ پریس کرتی ہوئی “حورالعین” دھک دھک کی آواز سے سیکیورٹی کو چیرتی ہوئی سی سی ٹی وی ہال میں داخل ہو رہی تھی۔معمول کے مطابق فین سینا کی نظریں حور کو ہی فالو کررہی تھی تو میم فین سینا تم سارے کیسسز چھوڑ کر مجھے ہی sourt out کرنے میں لگی تھی مزید پڑھیں

معاوضہ—ناصرصدیقی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

title afsana 25

اس شادی شدہ عورت کی پہلی ہی بے وفائی ایک پرانی قحبہ اور دلالہ نے پکڑی تھی۔ مردملگجے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اپنے چہرے کے سارے تاثرات کے ساتھ بھاگ گیا تھا اور عورت کھڑی تھی جس کی نشہ آور اور خوشبو سے اٹی پڑی زلفوں کی چند لٹیں مست ہواؤں سے بکھری ہوئی مزید پڑھیں

گُھس بیٹھیا—–وسیم بن اشرف

ghus bethia title

ڈان اینڈوکرز پلاسٹک کمپنی کے دفتر میں تاریکی اور خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ راہداری میں مدھم روشنی کا بلب جل رہا تھا۔ ایک دروازے پر کمپنی کے پارٹنر ڈان ماریسن کے نام کی تختی نظر آ رہی تھی۔ اس وقت رات کے دس بجے تھے۔ لؤکول ادھر ادھر دیکھتا ہوا راہداری میں داخل ہوا۔ اس مزید پڑھیں

آنکھ کی پتلی کا تماشا… فارحہ ارشد (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

eyes 1 title

” مجھے اس سے دس گھنٹے محبت ہوئی تھی صرف دس گھنٹے۔۔۔۔اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا۔” وہ خالی نظروں سے دور کہیں ان دیکھے منظروں میں کھوئی کہہ رہی تھی۔ میں نے کچھ حیرانی اور قدرے دلچسپی سے اسے دیکھا اور بنا ٹوکے اسےکہنے دیا جو نجانے کب سے وہ کہنا چاہ مزید پڑھیں

ادھورے نقوش—محمد نواز،کمالیہ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

afsana No 23

میٹنگ ہال میں شہر بھر کی ہیلتھ ورکرز کی ماہانہ میٹنگ جاری تھی ،ہر ہیلتھ ورکر سے اس کی کارکردگی پر باز پرس ہو رہی تھی ،جن ہیلتھ وکرز کی کارکردگی اچھی تھی انہیں تعریفی الفاظ میں سراہا جا رہا تھا اور جن کی کارکردگی خراب، ان کی سرزنش اورساتھ ہی آئندہ نوکری سے برخاستگی مزید پڑھیں

بے جنسیت—رحمٰن عباس

Bijinsiyat 1 title

مئی کامہینہ تھا ۔ سورج اپنی گرمی ممبئی پر برسا رہا تھا۔زمین کے اندرون سے گویا ایک دھواں سا اٹھ رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کولتار کی سڑک پگھل جائے گی ۔ شاہد اقبال نے سوچا کیا یہ شہر کسی آتش فشاں پر آباد ہے جس کے سبب زمین کی اندرونی مزید پڑھیں

انڈس ڈولفن—خاقان ساجد (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

Indus Doplin title final

ہم نے تاری ماموں کو باگڑجی کے جنگل میں جڑی بوٹیاں تلاش کرتے پایا۔ان کے بائیں کندھے سے ایک بڑا سا تھیلاجھول رہاتھاجس میں سے انواع واقسام کے پھول‘ پھلیاں‘ بوٹیاں اور پتیاں جھانک رہی تھیں۔ سندھ ساگرکے سیلابی ریلوں نے جنگل کی ترائی میں جووسیع وعریض جھیل تشکیل دی تھی‘وہ ہماری شکارگاہ تھی۔موسم سرما مزید پڑھیں

آبگینے—عرشیہ ہاشمی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 21)

abgeene title

” مبارک ہو اللہ پاک نے رحمت سے نوازا ہے” نرس نے اسے رحمت کی نوید سنائی تھی۔لیکن ہسپتال کے بیڈ پر نڈھال سی پڑی انابیہ کے چہرے پر سایہ سا آن لہرایا۔ “کیا بات ہے مس انا آپ خوش نہیں ہوئیں۔۔۔؟کیا آپ بھی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتی ہیں؟”نرس نے اس ننھی کلی کو اس مزید پڑھیں

چیونٹیاں—-حمیرا مدثر(ریاست نامہ افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 20)

title chuntian 14

“بیڑا غرق ہو تیرا ! نہ مار اِنھیں ۔یہ بے ضرر ،بے چاری مخلوق کیا کہتی ہے تجھے ؟” اُس نے چیونٹیوں کے ڈھیر پر اُچھلتے زبیر کو کان سے پکڑ کر پیچھے دھکیلا۔ “آپا میری قمیض کو ایسے سونگھتی ہیں جیسے میں نے گودے میں لڈو چھپا رکھے ہوں اور وہ میرا سائیکل دیکھ مزید پڑھیں

خلع—شگفتہ یاسمین (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 19)

afsana 19 title

”ذرا سوچ سمجھ کے فیصلہ کرنا۔۔۔۔۔۔ یہ رشتے کروانے والیاں جو بتاتی ہیں وہ حقیقت نہیں ہوتا”۔۔۔آپا نے بڑی بی بنتے ہوئے کہا، پاس بیٹھی خالہ صغریٰ، آپا کی بات پر تیش میں آ گئی اور لگی غصّہ کرنے۔ ’’جو مجھے نظر آتا ہے وہی تو آکر بتاتی ہوں میں نے کبھی غلط بیانی سے مزید پڑھیں

جب دل نے دھڑکنا چھوڑ دیا–پارس بخاری کوئٹہ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 18)

paras bukhari 12

دُھند چھٹ چکی تھی اور سورج کی کرنیں جاڑے کی دبیز چلمن سے فطرت کی بے انتہا خوبصورتی کو جھانک رہی تھیں۔پارک میں موجود خوبصورت دوشیزاؤں پر سورج کی یہ پُرحواس نظریں معمول کی بات تھی لیکن ویکنڈ (Weekend) پر یہ چوریاں اور بدحواسیاں قدرے بڑھ جایا کرتی تھیں۔ دُھند اور سورج کی یہ آپسی مزید پڑھیں

نکسیر—–اعتزاز احسن (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 17)

Ahtazaz Ahsan title 2

سردموسم کی خاموشی ہر سو دھواں دھواں ہو رہی تھی ۔ قریب رات 11بجے کا وقت تھا اور ہم چار ایک ہم صورت چائے کے ڈھابے میں نشست جمائے بیٹھے تھے۔ صبح اتوار تھی اور اسی نشے میں دھت ہم دنیا و ما فیہا سے بے خبر بس چائے کی پیالیاں پیتے جا رہے تھے۔ مزید پڑھیں

وہ معاف کرنے والا ہے—سلیم سرفراز،بنگال،ہند (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 16)

saleem sarfraz title

باثمر درختوں اور مرغزاروں سے گھری ہوئی وہ خوبصورت بستی نظر آئی تو جوان العمر مرید نے بےقرار ہوکر اپنے بزرگ پیر ومرشد سے استفسار کیا. “یاحضرت! کیا یہی وہ بستی ہے جہاں پہنچنے کا ہم نے قصد کیا تھا؟ ” بزرگ نے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کے دامن میں آباد اس بستی کا بہ نظر مزید پڑھیں

سرخ گلاب—طارق عزیز(ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 15)

red rose title

اس کے ننھے ہاتھوں میں گلاب کے آخری دو بنڈل باقی رہ گئے تھے۔ سرخ گلابی ہاتھوں میں پیلے گلاب۔ اُس کے ہاتھ پھولوں کو لگے پانی اور سردی کی وجہ سے گلابی ہوتے جاتے تھے، انہیں وہ باری باری اپنی پیٹھ پر رگڑ کر گراماتا جاتا تھا۔ آج اسے گلاب کے سرخ بنڈل کم مزید پڑھیں

نامکمل رومان۔۔۔ ابصار فاطمہ، سکھر افسانہ نمبر 14

Absar Fatoma Afsana title

آج پہلی بار وہ اپنے محبوب کے اتنے قریب بیٹھی تھی۔ بار بار ان کے بازو ایک دوسرے سے مس ہوتے اور وہ سرشار ہوجاتی۔ محبوب کی قربت اور ساتھ ہی پا لینے کا سرور بہت انوکھا تھا۔ اس نے جو چاہا وہ پالیا تھا۔ شاید اس سے زیادہ مکمل رومان کی داستان کوئی ہو مزید پڑھیں

خونی رشتے—-مجید احمد جائی،ملتان (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 13)

Title afsana No 13

شام کا وقت تھا ۔وہ سارے کام نمٹا کر کھانا بھی کھا چکی تھی۔وہ تھوڑی دیر ذہن کو پُرسکون اور تھکن دُور کر نا چاہتی تھی ۔ٹی وی لاؤ نج میں ٹی وی چل رہا تھا.وہ بھی ٹی وی اسکرین کے سامنے آبیٹھی ۔آج معمول کے مطابق خبروں کے بعد ڈرامہ نہیں چلا تھا ۔کسی مزید پڑھیں

حقیقی جیت—عبدالصبور شاکر ٹوبہ ٹیک سنگھ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 12)

Haqiqi Janat

’’پندرہ برس کا عرصہ کچھ کم نہیں ہوتا۔ میں نے اپنی زندگی کے پندرہ برس کانٹوں کے بستر پر گزارے ہیں۔میں روز مرا اور روز جیا ہوں۔مجھے صرف انتقام نے زندہ رکھا ہے۔‘‘ اس نے ڈائری پر ابھی اتنا ہی لکھا تھا کہ قلم نے چلنے سے انکار کر دیا۔ عاطف نے قلم کو انگوٹھے مزید پڑھیں

متاع ثلاثہ——خاقان ساجد

Mata e salasa title final

سیانوں نے سچ کہا ہے: ’’بڈھے کی مرے نہ جورو‘بالے کی مرے نہ ماں۔‘‘ دونوں کے لئے زندگی کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بالک سے زیادہ بالی کو ماں کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر بوڑھے کے لئے بیوی کی جدائی سہنا دُشوار ہوتا ہے تو جوان مرد کے لئے یہ مزید پڑھیں

تیسرا ایکٹ—-محمد کاشف حنیف (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 11)

Kashif Hanif title

ٹک ٹک ٹک ۔۔ٹک ٹک۔۔۔سفید قلموں اور ناک پر عینک جمائے میں جناح آڈیٹوریم میں داخل ہوا تو نیچے لگی لکڑی کی پھٹیوں پر میرے چلنے کی آواز میرے ذہن کے دریچوں پر پڑے قفل کھولنے لگی۔ میں نے بائیں جانب نظر دوڑائی تو ہال میں لگی سیڑھیوں کی شکل میں اوپر سے نیچے کی مزید پڑھیں

قید–ساجدہ غلام محمد مانچسٹر ( افسانوی مقابلہ. افسانہ نمبر 10)

Title Sajida Ghulam Muhammad Afsana

“انسان کو کس طرح نیند آتی ہے؟” ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ سونے کے لئے لیٹا تھا اور اب اچانک یہ سوال اس کے ذہن میں ابھرا تھا. قریب ہی اس کی بیوی کی مدہم سانسیں بتا رہی تھیں کہ وہ گہری نیند سو رہی ہے. “آج نوٹ کرتا ہوں کہ نیند میں جاتے مزید پڑھیں

نہ وہ سورج نکلتا ہے—شاہد جمیل احمد،گوجرانوالہ (افسانوی مقابلہ،افسانہ نمبر 9)

shahid jameel ahmed title 3

زمین کی تقسیم کا اعلان کیا ہوا کہ لوگوں کے ضمیر اور دل ہی تبدیل ہوگئے ۔ صدیوں سے قائم باہم انسانی رشتے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ یوں محسوس ہوتا تھاجیسے سالہا سال اکٹھے رہنے والوں کے بیچ کوئی جذباتی رشتہ سرے سے موجود ہی نہ تھا ۔ آناً فاناً ان کی سوچوں کے مزید پڑھیں

طعنہ–حفصہ فیصل (افسانوی مقابہ، افسانہ نمبر 8)

Hafsa Faisal title

مؤذن کی آواز کے ساتھ ہی صالحہ بستر چھوڑ دیتی،سفید پوُ پھوٹتے ہی وہ بنیادی ضرورتوں سے فارغ ہوکر رب کے سامنے جا کھڑی ہوتی صلاۃ و تسبیح سے فارغ ہوکروہ اپنے ہاتھ پھیلا کر اپنےخالی دامن کو اشکوں سے پُر کرکے خالقِ کون و مکان سے خو ب خوب مناجات کرتی ،ساتھ ہی اپنی مزید پڑھیں

روپ کا بہروپ—-ڈاکٹر ارشد اقبال،اترپردیش انڈیا (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 7)

Arshid Iqbal status

آج نومبر کا دوسراہفتہ یعنی ۷؍نومبرہے۔۔۔۔۔۔! آج کا دن اہم دن ہے۔۔۔اور ایک غیر معمولی تاریخی فیصلہ آنا ہے۔اگر فیصلہ مجرم کے خلاف آیا توپوری قوم کو مستقبل کے لیے ملک گیر پیمانے پرذہن سازی کی فضاء قائم کرنا مشکل ترین ثابت ہوگا ۔۔۔! فیصلے کے نتائج مثبت ہوں گے یا منفی؟ شاید یہ بعد مزید پڑھیں

تیرے سنگ پیا—-حمیرا تبسم (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 6)

Humera Tabasam afsana title

پوری وادی پہاڑوں سے اٹی ہوئی تھی۔جبکہ ان پہاڑیوں پہ بل کھاتی سڑکیں بھی موجود تھیں ارد گرد پتھروں سے بھرے میدان تھے جن پہ گھاس اگی ہوئی تھی ۔پہاڑیوں پہ بنے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے گھر بھی تھے جو کہ دور سے دکھائی دینے کی وجہ سے چھوٹے سے ڈربے نما لگتے۔جب کہ بڑے مزید پڑھیں

ہتھیلی——ماہ وش طالب (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 5)

hatheli title

فضا میں گھٹن سے زیادہ نفسا نفسی کا عالم تھا, مانو ہر کوئی نفس کے فقس میں قید ہو, پرانی انار کلی اور اس کے قرب و جوار میں ہر طرح کا بازار گرم تھا, موسمِ سرما کی خاص فضا میں سماں بندھا تھا, دھواں اڑاتے اشتہا انگیز پکوان,کہ رئیس ہو یا سائل , بھوک مزید پڑھیں

درد ا بھی ادھورا ہے–سارا احمد (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 4)

afsana sara Ahmed title

اس کی زندگی چرخے کی کوک کی مانند تھی- درد کی اٹیاں بنا کر وہ اپنے دل کی صندوقچی میں قفل لگا کر سنبھال لیتی پھر کنواری راتوں کی نیند جب اس کے ٹوٹتے بدن سے لپٹتی تو اسی درد کے سوت سے اپنی کرلاہٹوں کو جکڑتی- محبت بڑی نامراد شے ہے- اچھے بھلے بندے مزید پڑھیں

داہنی آنکھ ——تنزیلہ یوسف لاہور ( افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 3)

Tanzeela Yousif afsana title 2

“وہ اب نہیں آئےگا۔ اس کی راہ دیکھنا چھوڑ دے بھلیے لوکے۔ وہ وہاں جا چکا ہے جہاں سے کوئی واپس نہیں آسکتا۔ اب اسے تیری میری دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اپنے دل کو سمجھا اور زندگی کی طرف واپس مڑ کر دیکھ ۔ جانے والا اتنی ہی عمر لکھوا کر لایا تھا۔ زندگی رب مزید پڑھیں

روح کا سفر—رابعہ الرَ بّاء (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 2)

rooh ka safer afsana no 2

آسما نی پردوں پر ، رائل بلیو لہروں میں ، سفید پتو ں کی باتیں ، جب نیلے بیڈ پہ بچھے ریشمی رائل بلیو بستر کے مو تیا پھو لو ں سے ہو تیں تووہ الما ری کے قریب بچھی آسما نی رگ پہ آ بیٹھتی ، اور بلیو کْشن سے ٹیک لگا کر ان مزید پڑھیں

کالے دیوؤں کی واپسی—ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیر (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 1)

Dr riaz toohedi afsana no 1 title 2

وہ گہری کھائی سے نکل کر جونہی پہاڑ کی بلند چوٹی پرپہنچ گیاتو دھوپ کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ پگھلتے گلیشیئرکی طرح یخ بستہ وجود بھی رفتہ رفتہ پگھلنے لگا۔تھوڑی دیر تک حواس بحال ہوتے ہی بے قرار آنکھیں گہری کھائی کے پگھلتے گلیشیئر کو تکنے لگیں۔پانی کے بہاؤ کی طرح جیسے اس کی منجمدیاداشت مزید پڑھیں

افسانہ ڈالی—- خاقان ساجد

Khaqan Sajid dali title

نیا سا ل بھی دبے پاؤں گزرتاجا رہاتھا مگر سردار کی یورپ یاترا سے واپسی کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اس کی عدیم الفرصتی کے سبب قبیلے کی بیسیوں کنواریاں‘ بیاہ کے انتظار میں بابل کی دہلیز پر بیٹھی ‘ لو کی ماری امبیوں کی طرح پیلی پڑ رہی تھیں۔ سبھی چپکے چپکے شہید بابا مزید پڑھیں

آپا—-ممتاز مفتی

AApa title

جب کبھی بیٹھے بٹھائے، مجھے آپا یاد آتی ہے تو میری آنکھوں کے آگے چھوٹا سا بلوری دیا آ جاتا ہے جو نیم لو سے جل رہا ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک رات ہم سب چپ چاپ باورچی خانے میں بیٹھے تھے۔ میں، آپا اور امی جان، کہ چھوٹا بدو بھاگتا ہوا آیا۔ ان مزید پڑھیں

آخری آدمی—انتظار حسین

akhri admi title 2

الیاسف اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔ اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر مزید پڑھیں

سوزدروں–کرنل خاقان ساجد

Sod e Xian Khaqan sajid title

اسے توقع تو تھی مگریقین سے کچھ کہنامشکل تھا۔مقابلہ سخت تھا۔آخری وقت تک امیدوبیم کی سولی پرلٹکارہا۔دفترسے اس نے دوروزکی رخصت لے لی تھی۔اچھی یا بری خبروہ اپنے گھرپرہی سننا چاہتاتھا۔ دوپہردوبجے کے قریب ایک سینئر نے فون پر خوش خبری سنائی توسرشاری وشادمانی کی ایک لہرایکاایکی سارے وجود میں دوڑ گئی۔ احساس تفاخر سے مزید پڑھیں

بیچاری ریل گاڑی—–مجید احمد جائی

Rail car title

میں ریل گاڑی ہوں ،بے قصور اور مظلوم ۔اِس وقت پاک سرزمین پاکستان کے مشہور شہر کے پلیٹ فارم پہ کھڑی ہوں ۔اب تو میں بوڑھی اور شاید ناکارہ بھی ہو چکی ہوں لیکن ایک وقت وہ بھی تھا ۔جب مجھ پہ جوبن تھا ۔میں جوان تھی اور الہڑمٹیار کی طرح شوخیانہ پن اور نخرے مزید پڑھیں

خدا،گڑیا اور خدا (افسانہ)–محمد ریاست

Khuda,Gurhia aur Khuda title

ریڈر کا قلم رک گیا، جج کا ہاتھ ماتھے پر ٹک گیا اور منہ کھلے کا کھلا رہ گیا کیونکہ اس نے لفظ ” کیا ” کہا تھا اور پھر شاید منہ بند کرنا بھول گیا،ٹائپسٹ کی انگلیاں ہوا میں معلق ہو گئیں. وکیل استغاثہ نے اپنی براق ایسی سفید داڑھی میں انگلیاں ڈالیں اور مزید پڑھیں

شیدو—-خاقان ساجد

shedo title 2

وہ کہنے لگا: ’’بھیرہ انکلیو تو ایک پرچھائیں ہے اُس سندر شہر کی۔ رہی روپاؔ تو اس حقیقت کے باوجود کہ وہ شادی سے پہلے ’’مس کلکتہ‘‘ کا ٹائٹل جیت چکی تھی، میرے خیالوں کے ایرینا (ARINA) میں منعقد ہونے والے ہر مقابلۂ حسن میں وہ ہمیشہ رنر اپ (RUNER UP) ہی رہی۔ ملکۂ حسن مزید پڑھیں

افسانہ: کباڑیا—-افسانہ نگار: خاقان ساجد

Webp.net-compress-image (34)

چھاؤنی کی حدود سے باہرمضافات کی طرف جانے والی سڑک کے اردگرد‘جہاں کبھی سرسبزکھیت اوراینٹ گارے سے بنے اکا دکامکانات ہواکرتے تھے ‘ وہاں اب بے ہنگم رہائشی کالونیاں وجودمیں آچکی تھیں۔سڑک کے دونوں جانب دور تک ہرطرح کی دکانیں‘گودام‘سی این جی اسٹیشن‘تعمیراتی سامان کے بڑے بڑے سٹور اورماربل فیکٹریاں بن گئی تھیں۔راجامشکورکا’’آرکوآکشن مارٹ‘‘ بھی مزید پڑھیں

جنتی جوڑا—واجدہ تبسم

Webp.net-compress-image (29)

آج ایک ساتھ خوشی اور غم کا دن تھا۔ بی بی ماں کی شادی کا دن! چاندی کے جھم جھماتے تھالوں میں ایک قطار سے دس جگر مگر کرتے تولواں جوڑے، رکھے تھے اور گیارھواں تھا، جو سونے کا تھا، اس میں سب سے قیمتی جوڑا سجا ہوا تھا، جس کی مجموعی قیمت پچیس ہزار مزید پڑھیں

موت منڈی میں اکیلی موت کا قصہ——محمد حمید شاہد

Webp.net-compress-image (28)

وہ مر گیا۔ جب نخوت کا مارا‘ امریکا اپنے پالتو اِتحادیوں کے ساتھ ساری اِنسانیت پر چڑھ دوڑا اوراعلٰی ترین ٹیکنالوجی کے بوتے پر سب کوبدترین اِجتماعی موت کی باڑھ پر رَکھے ہوئے تھا ‘ وہ اِسلام آباد کے ایک ہسپتال میں چپکے سے اکیلا ہی مر گیا ۔ مجھ تک اُس کے مرنے کی مزید پڑھیں

ذرا اور اوپر——-واجدہ تبسم

Webp.net-compress-image (27)

نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔ اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ معطر ہو گیا…. پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے مزید پڑھیں

کھول دو—–سعادت حسن منٹو

Webp.net-compress-image (26)

امر تسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی، راستے میں کئی آدمی مارے گئے ، متعدد زخمی اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گئے۔ صبح دس بجے۔۔۔۔کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں، اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک مزید پڑھیں

کالی شلوار—–سعادت حسن منٹو

Webp.net-compress-image (6)

دہلی سے آنے سے پہلے وہ انبالہ چھاؤنی میں تھی، جہاں کئی گورے اس کے گاہک تھے۔ ان گوروں سے ملنے جلنے کے باعث وہ انگریزی کے دس پندرہ جملے سیکھ گئی تھی۔ ان کو وہ عام گفتگو میں استعمال نہیں کرتی تھی لیکن جب وہ یہاں آئی اور اس کا کاروبار نہ چلا تو مزید پڑھیں

اُترن——-واجدہ تبسم

Webp.net-compress-image (5)

’’نکو اللہ، میرے کو بہوت شرم لگتی۔‘‘ ’’ایو اس میں شرم کی کیا بات ہے؟ میں نئیں اتاری کیا اپنے کپڑے؟‘‘ ’’اوں …. چمکی شرمائی۔‘‘ ’’اب اتارتی کی بولوں انا بی کو؟‘‘ شہزادی پاشا جن کی رگ رگ میں حکم چلانے کی عادت رچی ہوئی تھی، چلا کر بولیں۔ چمکی نے کچھ ڈرتے ڈرتے، کچھ مزید پڑھیں

لنگی——شموئل احمد

lungi title

شموئل احمد کا تعلق انڈیا سے ہے وہ بہت ہی سینئر لکھاری ہیں اور فکشن نگاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے. ان کا گزشتہ دنوں شائع ہونے والا افسانہ لنگی منفرد پلاٹ پر لکھا گیا ایک خوبصورت اور متنازعہ افسانہ ہے.یہ افسانہ کئی پلیٹ فارمز پر شائع ہو چکا ہے اور شموئل احمد پر اسی مزید پڑھیں

تکلے کا گھاؤ——حمید شاہد

takale-ka-ghao

کاغذ پر جُھکا قلم کمال محبت سے گزر چکے لمحوں کی خُوشبو کا متن تشکیل دینے لگتا ہے: ”ابھی سمہ بھر پہلے تک دونوں وہ ساری باتیں کررہے تھے- جو دنبل بن کر اندر ہی اندر بسیندھتی- پھولتی اور گلتی رہیں یا پھر اَلکن ہو کر تتّے کورنوالے کی طرح حلق میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ مزید پڑھیں

آزاد سنگھ——-عبدالصبورشاکر پھلور

azad singh title

آزاد سنگھ ’’ایکسکیوزمی سر! کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟ ‘‘ میں جو آنکھیں موندے، بینچ سے ٹیک لگائے اور پاؤں پسارے بیٹھا ہوا تھا یکدم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ میرے سامنے اٹھارہ بیس سال کا نوجوان کھڑا تھا۔ بھوری ڈاڑھی، لمبی پلکیں، سفید چہرہ اور گلابی ہونٹ، البتہ سر پر بندھی مخصوص سٹائل مزید پڑھیں

عورت کتھا——مریم تسلیم کیانی

marim afsancha title final

کاش میں رک جاتی وہ جب سے اولڈ ایج ہوم آئی تھی ایک ہی رٹ لگا رہی تھی. اس اولڈ ایج ہوم میں صرف خواتئن تھیں یہاں آنے کا صدمہ بہت تھا ہے. وہ چونکہ نئی نئی تھی اور سب کے سامنے بولنا نہیں چاہتی تھی، اس لیے میں نے ایک دن اس سے اکیلے مزید پڑھیں

پیچاک———شاہد جمیل احمد

pechak title

دریا، کنارا ، دور تک چھوٹے اور درمیانے پیڑوں کے جُھنڈ اور پھر ایک بڑا درخت۔ درخت کا بھی کوئی نام نہیں ، اِسے بس ہم اس کی چھایا اور داڑھی سے پہچانتے ہیں ۔ جب ہم درخت کی داڑھی دیکھتے ہیں تو کبھی اپنی چھاتی کے بالوں کو دیکھتے ہیں ، کبھی اپنی بغلوں مزید پڑھیں

ہمزاد————- شاہد جمیل احمد

humzad title

ٹھک، ٹھک،ٹھک! کون ہے بھئی؟ میں ہُوں! میں کون؟میں اِبنِ فلاں!اِبنِ فلاں کون؟اِبنِ فلااں!اِبنِ فلاں کون؟ حد ہو گئی بھئی !یہ کنڈیالے چوہے جیسے بالوں والا بابا میری جان کو آ گیا ہے۔یہ حیات کا مُنکر نکیر ممات سے پہلے ہی پُوچھ کر رہے گا کہ آخر میں کون ہوں۔اگرچہ یہ دروازہ بھی میرے لئے مزید پڑھیں

ایک رات کی خاطر—–شاہد جمیل احمد

aik raat ki khater title

میرے کندھوں سے کب اترے گا صابی تو بولتا کیوں نہیں؟ تجھے پتہ ہے اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔ میرے قویٰ جواب دے گئے ہیں۔ تجھے لاد کر دو قدم چلتا ہوں تو میری سانس پھول جاتی ہے۔ مجھے ناف پڑ جاتی ہے ناف ٹھیک ہوتی ہے توچک پڑ جاتی ہے اے زلیخا کے مزید پڑھیں

سفید اور سیاہ بادلوں کا کولاژ———– صدف اقبال، گیا (انڈیا)

sadaf iqbal afsan title

شہر کے آخری چھور پہ وہ پرانا برگد کا درخت اپنے سینے میں صدیوں کی داستان سمیٹے اپنے لمبے بازوؤں کو پھیلائے آج بھی مضبوطی سے کھڑا تھا ۔اسکی جڑ میں بنا پختہ چبوترہ ہمیشہ ہی اوباشوں کا اڈہ رہا تھا اور اس پر بیٹھ کر ہر قسم کی باتیں ہوتیں ۔ گرمی کی دوپہر مزید پڑھیں

آخری ہچکی——–محمد ریاست

Akhri hichki afsana

پندرہ سال کے طویل عرصے کے بعد ہم دونوں اسی ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے جہاں ہم پہلے تقریبا روز ملا کرتے تھے، میں نے دانستہ ٹیبل بھی وہی منتخب کیا تھا جو اس کا پسندیدہ تھا بلکہ اس ٹیبل کے حصول کے لئے مجھے اس بوڑھے ویٹر کو ٹپ دینی پڑی تھی جو پندرہ سال مزید پڑھیں

حال دل———–ساجد ہدایت (لاہور)

sajid hadayat afsana final title

میں جانتا ہوں کہ اب حال دل تم سے کہنا بیکار ہے…. کیونکہ نہ تم میری دوست اور نہ ہی میری دشمن ہو…. پھر بھی نہ جانے میرا دل صرف تمھیں ہی کیوں ہر بات بتانا چاہتا ہے؟؟؟ ……. میں تم سے ہی سب باتیں شئیر کر کے خود کو ہلکا کیوں محسوس کرتا ہوں….. مزید پڑھیں

سفید کبوتر——–ڈاکٹر ریاض توحیدی

Dr riaz tohedi final title

وہ اسپتال سے چیک اپ کروانے کے بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ راجدھانی چوک کے قریب غیر متوقع ٹریفک جام سے آمدو رفت کا سلسلہ درہم برہم ہوچکاتھا۔گاڑیوں کے کالے دھوئیں کی زہر آلود ہ فضاسے ماحول دھند زدہ ہوگیا تھا۔افراتفری کے عالم میں لوگوں کا گاڑیوں سے اترنا چڑھنا جاری تھا۔پْرانتشار کیفیت میں حساس مزید پڑھیں

“پہلا ریاست نامہ سالانہ مقابلہ برائے افسانہ نگاری”

riasatnama muqabla title

ریاست نامہ لایا سب سے بڑا مقابلہ پہلا ریاست نامہ سالانہ مقابلہ برائے افسانہ نگاری پہلا انعام 30 ہزار روپے پاکستانی نقد،اسناد اور شیلڈ دوسرا انعام 15 ہزار روپے پاکستانی نقد،اسناد،شیلڈ تیسرا انعام 10 ہزار روپے پاکستانی نقد،اسناد،شیلڈ بہترین تبصرہ نگار کے لیے 10 ہزار روپے پاکستانی نقد. شرائط و ضوابط: تمام انعامات کا فیصلہ مزید پڑھیں

واپسی———محمد حمید شاہد

wapsi hameed shahid

محض ایک ہفتہ باقی تھاا ور وہ ہاتھ پاﺅں چھوڑ بیٹھا تھا۔ حالاں کہ اُس کے بارے میں اُس کے ماتحت کام کرنے والے اور اعلیٰ افسران دونوں رائے رَکھتے تھے کہ وہ لاتعلق ہو کر بیٹھنے والا یا مشکل سے مشکل حالات میں بھی حوصلہ ہارنے والا فرد نہیں‘ آخری لمحے تک جدوجہد کرتا مزید پڑھیں

برف کا گھونسلا ———– محمد حمید شاہد

Burf-ka-ghonsla

وہ غُصے میں جلی بُھنی بیٹھی تھی۔ اِدھر اُس نے چٹخنی کھولی‘ میں نے گھر کے اندر قدم رکھا‘ اُدھر وہ مجھ پر برس بڑی۔ بچیاں جو مجھے دیکھ کرکھِل اُٹھی تھیں اور میری جانب لپکنا ہی چاہتی تھیں‘ اِس متوقع حملے میں عدم مداخلت کے خیال سے‘ جہاں تھیں وہیں ٹھہری رہیں۔ ”اِس سے مزید پڑھیں

افسانہ: زمین پر اُترا ہوا پاگل چاند’ افسانہ نگار: محمود ظفر اقبال ہاشمی

mehmood zafar iqbal hashmi title

حنین امراء کی اس پر شور محفل سے تنگ آکر سب سے نظریں بچاتے ہوئے باہر نکل آئی مگر بدقسمتی سے آج چودھویں کی رات تھی ۔ جو کچھ اس کے ساتھ پچھلے چند برسوں میں ہوا تھا اس کے بعد اسے چودھویں کے کھلکھلاتے ہوئے چاند اور اس کی نقرئی روشنی سے چڑ سی مزید پڑھیں

افسانہ: کاتک کی دلہن افسانہ نگار: محمد نواز کمالیہ

KATIK KI DULHEN NAWAZ

گاؤں کی کچی سڑک کے کنارے آوارہ کتوں کا اک گروہ نا جانے کہاں سے آ گیا تھا ۔گاؤں کی طرف جانے اور آنے والا ہر آدمی راہ بیٹھے ان کتوں سے دامن بچا کر گزرنے کی کوشش کرتا ، تاہم پھر بھی ان کے بھونکنے کی آوازیں کبھی کبھار سنائی دینے لگتی تھیں۔ اگرکوئی مزید پڑھیں

افسانہ: فیتا، افسانہ نگار: خاقان ساجد

afsana feeta cover

اگرآپ کبھی صبح سویرے کشمیر روڈ کی جانب سے باؤ محلے میں داخل ہوں تو آپ کو درمیانی عمر‘صاف رنگت اورکھچڑی داڑھی والا ایک پستہ قد آدمی نظرآئے گاجوتیزقدموں سے چلتاہوا ہاتھی چوک کی طرف جارہاہوگا۔ مٹیالے رنگ کی شلوار قمیص ‘ پشاوری چپل اورنماز والی ٹوپی پہنی ہوگی ۔ہاتھ میں موٹے دانوں کی تسبیح مزید پڑھیں

افسانہ: آخری سگریٹ افسانہ نگار: محمد نواز کمالیہ

afsana cigrette title

آخری سگریٹ محمد نواز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمالیہ وہ اپنے سگریٹ کیس میں ہمیشہ دو سگریٹ رکھتا تھا،ایک سگریٹ سلگاتااور اسے مزے لے لے کر پیتا ، سگریٹ کا کش پہلے گلے میں اترتے سانس کے ساتھ اندر پھیپھڑوں تک لے جاتا اور پھر اسے ناک اور منہ کے راستے باہر آتی سانس کا گولا سا بنا مزید پڑھیں

ووٹ———–محمد ریاست

vote title cover

مرکھٹ پر آگ ٹھنڈی پڑچکی تھی، چتا جل کر راکھ ہوئی تھی اور راکھ کو ٹھکانے لگانے کا کام جاری تھا۔ بالکل ساتھ ہی ایک اور چتا جلانے کا انتظام کیا جا رہا تھا، چندو نے گرد آلود ہاتھوں سے اپنا چہرہ صاف کرنے کی ناکام کوشش کی اور دوسری چتا کی طرف بڑھ گیا مزید پڑھیں

افسانہ عام سی عورت آسناتھ کنول

aam si aurat title

یہ کوئی کہانی نہیں ہے ایک عورت کا دکھ ہے جو صرف ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے۔ مہر سلطان بہت باوقار اور دبدبے والی عورت تھی پٹرھی لکھی سمجھدار اور دانشور ۔دنیا کو اپنے پیروں تلے روندنے والی ایکٹروں پر پھیلی ہوئی زمین جو ہر قسم کی کھیتی سے بھری رہتی۵ کینال پر پھیلی مزید پڑھیں

افسانہ تبدیلی- مصنف آسناتھ کنول

tabdeeli title

وہ اپنے بوڑھے ہوتے ہوئے بالوں میں جوانی کا رنگ بھرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔نئی بتیسی اُس کے زندہ جذبوں کوپامال نہیں کر سکتی تھی۔عمروں کے روگ جسموں کو شکستہ کرتے ہیں،روحوں کو نہیں۔آپریشن زدہ آنکھوں میں اب بھی خواب اُترتے تھے اور وہ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے کسی لاحاصل سفر مزید پڑھیں

افسانہ: لاش افسانہ نگار: محمد ریاست

title lash final

میرے اوپر ایک لاش تھی۔ میرے دائیں بائیں کئی لاشیں تھیں اور میری ٹانگ، اف میری ٹانگ میں شدید درد تھا جسے میں بمشکل برداشت کررہا تھا۔ تھوری دیر پہلے میری ٹانگ میں گولی لگی تھی۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ گولی تھی یا گولیاں، اس حالت میں مجھے تعداد کا مزید پڑھیں