غزل—-آشاخان عاشی یو کے

غزل رات روتا رہا ہوں میں خشک پتوں کی طرح یہ وقت بھی گزر جائیگا پچھلی روتوں کی طرح اب دل بہلانے کی کوئی تو ایسی بات نہ کر کہیں پھر نہ میں رو پڑوں بارشوں کی طرح وقت کی دوش پہ کتنے ہی نام لکھے ہوے ہیں کتنے تھے جوآئیاور چلے گے موسموں کی مزید پڑھیں

میر تقی میر کی غزلیں

میر تقی میر جن کا اصل نام میر محمد تقی میر تھا اگست یا فروری 1723 میں آگرہ میں پیدا ہوئے. ان کے داد حجاز سے ہجرت کر کے حیدرآباد دکن آئے تھے.ان کی زندگی کے کچھ حالات ان کی خود نوشت ذکرِ میر میں ملتے ہیں. انہیں اردو غزل کے بانیوں میں شمار کیا مزید پڑھیں

حنیف عابد کی نعتیں

یکم ربیع الاول، پہلی نعت حنیف عابد مجھ کو کسی سے کوئی غرض ہے نہ کام ہے میرے لبوں پہ شاہ امم ہی کا نام ہے اس خاکِ پاک سے ہے مجھے نسبتِ شرف سب سے بلند جس کا جہاں میں مقام ہے مہکی کلی ہے دل کی اگر جھوم جھوم کر آنے لگا ہے مزید پڑھیں

الحاج نجمی کی تازہ غزلیں

غزل——الحاج نجمی غضب مزاج کے حامل ہو دلربا تم بھی ذراسی بات پہ ہوجاتے ہو خفا تم بھی جلاکے میں نے رکھا بام پہ جو ایک دِیا چلے بجھانے اُسے تیرَگی ،ہَوا ،تم بھی مِرے خلوص کو سمجھا نہیں زمانہ مگر گلہ نہیں ہے کہ سمجھے نہیں ذرا تم بھی جھلستی دھوپ میں پیشِ نظر مزید پڑھیں

زریں منور کی غزلیں

غزل———-زریں منور غم گساروں کی خیر ہو بابا اِن سہاروں کی خیر ہو بابا جِن کو ترسے ہیں ڈوبنے والے اُن کناروں کی خیر ہو بابا یہ دعا ہے سیاہ بختوں کی چاند تاروں کی خیر ہو بابا ہم کہاں التفات کے قابل تیرے پیاروں کی خیر ہو بابا جو نشیمن جلانے آئے ہیں! اُن مزید پڑھیں

ساحل منیر کی نظمیں

آواز دے ہمیں———–ساحل منیر ہم روحِ کائنات ہیں آواز دے ہمیں یزداں کا التفات ہیں آواز دے ہمیں اس شہرِ بد نصیب کی بے کیف بزم میں رنگینئی حیات ہیں آواز دے ہمیں صحرائے زندگانی کی تِشنہ فضاؤں میں اِک جامِ حادثات ہیں آواز دے ہمیں صدماتِ ماہ و سال کو دل سے لگا کے مزید پڑھیں

ساحل منیر کی غزلیں

غزل———ساحل منیر پارسائی کی حد ضروری ہے اس خدائی کی حد ضروری ہے کون سمجھائے اہلِ مسند کو خود ستائی کی حد ضروری ہے عِلم اور جَہل کے تصادم میں جگ ہنسائی کی حد ضروری ہے جس کا انجام ہی ندامت ہو اُس لڑائی کی حد ضروری ہے تاڑتی ہیں ہوس زدہ نظریں دلربائی کی مزید پڑھیں

غزلیات——–شبیر نازش

غزل———– شبیر نازش رکی ہوئی ہیں گردشیں، نظام چل نہیں رہا گیا وہ جب سے چھوڑ کے، سمے بدل نہیں رہا ہر ایک شے ہے آس پاس جوں کی توں رواں دواں مگر مری گرفت میں وہ ایک پل نہیں رہا میانِ وصل یک نفس وہ یوں کُھلا کہ اُس گھڑی ابد ابد نہیں رہا، مزید پڑھیں

حنیف عابد کے دس سلام

پہلا سلام——————حنیف عابد بے شک بہت بلند ہے رتبہ حسین کا اترا ہے آسمان سے پرسہ حسین کا اس کا بدل کسی کو جہاں میں نہیں ملا عاشور لا رہا ہے جو گریہ حسین کا پڑھتے رہے جو کلمہ نبی کا وہی شقی خیمہ جلا رہے تھے وہ وللہ حسین کا سب کچھ لٹا دے مزید پڑھیں

سلام ———–انجم عثمان

سلام رشتۂ درد سے منسلک نسبتِ اہلِ بیتِ شفیع الوریٰ پا گئے ان کے غم کو جو دل میں بسایا کئے ،فرش سے عرش کا سلسلہ پا گئے قافلہ اہلِ صدق و صفا کا چلا ،اپنی جانیں لٹانے کا تھا حوصلہ ! جن کی قسمت میں فردوس لکھی گئی ،وہ تو تقدیر سے کربلا پا مزید پڑھیں

نظم: تتلیاں شاعرہ: آسناتھ کنول

کانپتی مرمریں انگشت حسیں چھُو کے گذرے جو تنِ نازک کو دل کی دھڑکن سی بڑھی لگتی ہے گلشنِ دید کے نظاروں میں سارے موسم سارے گُل بوٹے کھلے دِکھتے ہیں سارے ارمان بھلے لگتے ہیں اُس کی سوچوں میں میری سوچ رچی لگتی ہے لرزتے ہونٹوں پہ اک نام تھرکتا ہے ابھی جُھکتی آنکھوں مزید پڑھیں

سلامِ حسین——–الحاج نجمی

آنکھ کرتی رہے نوحہ تو کرے دل گریہ کام آئے گا کسی روز مرے دل گریہ ہے گراں قدر ہر غم سے غمِ آلِ نبیﷺ بے کراں ہے ہر اک گریہ کے مقابل گریہ موجہِ غم کے بھنور چاروں طرف ہیں پُر زور ساگرِ غم کے تلاطم میں ہے ساحل گریہ قافلہ اشکِ رواں کا مزید پڑھیں

سلام——سعید اشعر

بہت ہی کم ترے افلاک کو پسند کیا مرے حسین نے اس خاک کو پسند کیا غمِ حسین میں کعبہ نے بھی ہمیشہ سے سیاہ رنگ کی پوشاک کو پسند کیا دلیر ایسا، شہادت کے واسطے اپنی یزید، دشمنِ بیباک کو پسند کیا نواسہِ شہِ بطحا کو زندہ رہنا تھا کتابِ عجز کے اوراق کو مزید پڑھیں

نظم: درختوں کے لیے شاعر: فاضل جمیلی

اے درختو! تمہیں جب کاٹ دیا جائے گا اور تم سوکھ کے لکڑی میں بدل جاؤ گے ایسے عالم میں بہت پیشکشیں ہوں گی تمہیں تم مگر اپنی روایت سے نہ پھرنا ہر گز شاہ کی کرسی میں ڈھلنے سے کہیں بہتر ہے کسی فٹ پاتھ کے ہوٹل کا وہ ٹوٹاہوا تختہ بننا میلے کپڑوں مزید پڑھیں

اکرم کنجاہی کی غزلیں

غزل دکھ درد سمیٹ اپنے مرے گھر سے نکل جا اے تلخئ حالات مقدر سے نکل جا گُل پوش ہوئی کب مرے جیون کی کوئی شاخ اے خواہشِ گُل سر و و صنوبر سے نکل جا جاں چھوڑ نہ دے اور یہ دم توڑ نہ دے عزم منزل کے قریں ضعف مرے پر سے نکل مزید پڑھیں

الحاج نجمی کی غزلیں

غزل تمہیں ہے یاد کہاں چھوڑ کر گئے تھے تم. یہاں کھڑے تھے یہاں چھوڑ کر گئے تھے تم پڑا ہوا ہوں اسی پیڑ کے میں سائے میں کنویں کے پاس جہاں چھوڑ کر گئے تھے تم یقین تھا کہ نہیں آؤ گے کبھی ملنے. یقیں کے ساتھ گماں چھوڑ کر گئے تھے تم ترس مزید پڑھیں

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کی غزلیں

غزل زخم کو پھول بناتے ہوئے تھک جاتی ہوں آنکھ کو خواب دکھاتے ہوئے تھک جاتی ہوں کوئی سنتا ہی نہیں اس کے علاوہ مجھ سے ایک ہی گیت سناتے ہوئے تھک جاتی ہوں کوئی بھی دوست نہیں ہوتا علاوہ اپنے خود کو یہ بات بتاتے ہوئے تھک جاتی ہوں اس قدر دور چلی جاتی مزید پڑھیں

محسن سلیم کی غزلیں

غزل یار کو میں نے جب کہا خوشبو ہم کو آنے لگی صدا خوشبو. پھول کو شاخ سے جو توڑا تو ہم سے رہنے لگی خفا خوشبو جب بھی نظروں وہ ہوئی اوجھل اس کا دینے لگی پتہ خوشبو روپ تیرا بھی ڈھل گیا جاناں ہو گئی پھول سے جدا خوشبو تیری خوشبو بسی ہے مزید پڑھیں

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق کی غزلیں

غزل ہے پیار مجھ کو تم سے اقرار کر رہی ہوں. یہ جرم اب لے سرِ بازار کر رہی ہوں اپنی آنکھوں کے راستے سے دل میں تم اتارو بس یہی تقاضا میں سو بار کر رہی ہوں مجھے رہ گزر کا پتھر کہیں نہ جان لینا ہر ایک بات میں یہی اصرار کر رہی مزید پڑھیں

الحاج نجمی کی نظمیں

مجھے اک چراغ جلانا ہے ……………… میں ماں کی کوکھ میں ہوں… امن ، سکون اور ماں کی ممتا کی راحتوں کے احساس سے لطف اندوز ہورہا ہوں. مگر… میرے اطراف یہ کیسی آوازیں ہیں. یہ تو کہیں قریب سے آرہی ہیں. سنو تو … ذرا غور سے سنو… ارے یہ کون سسکیاں لے رہا مزید پڑھیں

افضل ہزاروی کی غزلیں

ہندکو غزل ایجی حرکت یار نہ کر چھپ چھپ کے توں وار نہ کر اوکھا کم دلدار نہ کر عشق سمندر پار نہ کر پہلے ای دل زخمی اے اکھیاں تو تلوار نہ کر چپ کر کے توں سنڑدا جل گل کوئی بشکار نہ کر افضل جلدی کم مکا ہفتے توں اتوار نہ کر اردو مزید پڑھیں

سعید اشعر کی غزلیں

تازہ غزل ….. سعید اشعر آدھی قیمت سے توبہ تائب ہوں میں محبت سے توبہ تائب ہوں ایک وعدہ تھا جو وفا نہ ہوا اس مصیبت سے توبہ تائب ہوں تیری خاطر فقیر بن گیا تھا ایسی حالت سے توبہ تائب ہوں سانس لینا عذاب ہونے لگا ایسی شہرت سے توبہ تائب ہوں بھیڑیے گرد مزید پڑھیں

فاضل جمیلی کے متفرق اشعار

کسی دیے سے گلہ بھی کریں تو کیسے کریں پرائے گھر کی منڈیروں پر جگمگایا کیوں میں اپنے عزم اور ارادے سے کم جیا ستر برس کی عمر میں آدھے سے کم جیا ملا نہیں جب کوئی محفل میں ہم نشینی کو میں اک خیال کے پہلو میں جا کے بیٹھ گیا کیا کوئی اور مزید پڑھیں

آسناتھ کنول کی غزلیں اور نظمیں

غزل————– آسناتھ کنولؔ اہل دِل اب عہد ِ رفتہ کی نشانی ہو گئے خواب سارے دیدۂ تر کی کہانی ہو گئے ریزہ ریزہ ہو گئیں سب پتیاں احساس کی چہرے سب زیرِپلک پانی ہی پا نی ہو گئے کپکپاتے لب پہ بیٹھی ان کہی سی داستاں سوچ کے سارے پرندے لامکانی ہو گئے جُستجُو کے مزید پڑھیں